خانیوال(پی ایم این/نمائندہ، محمدعلی راو)چک نمبر67دس آرمیں مبینہ طور پر محکمہ انہار کے اہلکاروں کی ملی بھگت سے گزشتہ چالیس سال سے موجود سرکاری کھال کو مسمار کرکے اس کی جگہ سڑک تعمیر کرنے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ متاثرین کے مطابق اس معاملے میں سول کورٹ کے جاری کردہ حکم امتناعی (اسٹے آرڈر) کو بھی نظر انداز کیا گیا۔ متاثرہ فریق رانا محمد عرفان، رانا عمران اور رانا محمد زمان کے مطابق ان کی زرعی اراضی کے ساتھ واقع سرکاری کھال کئی دہائیوں سے موجود تھی، تاہم 13 مئی 2026 کو محکمہ انہار کے مقامی عملے نے مبینہ طور پر بعض بااثر افراد کے ساتھ مل کر کھال کو گرا کر وہاں سڑک کی تعمیر شروع کر دی۔
متاثرین کا الزام ہے کہ اس کارروائی میں ایس ڈی او انہار مہر منظور، ایکسیئن فہیم فرید اور پٹواری تنزیل سمیت محکمہ انہار کے متعلقہ اہلکاروں کی مبینہ سرپرستی شامل تھی، جبکہ راؤ طارق، راؤ ندیم ولد ذوالفقار، راؤ ساجد علی ولد ظہور، راؤ عابد علی ولد منظور، راؤ نوید، بوٹا گجر ولد خیردین، راؤ نعیم، راؤ ندیم ولد سلیم اور شاہ نواز نول سمیت دیگر افراد نے اس کارروائی میں حصہ لیا۔ متاثرین کے مطابق مذکورہ مقام کے حوالے سے سول کورٹ سے حکم امتناعی حاصل کیا جا چکا تھا، لیکن اس کے باوجود سرکاری کھال کو مسمار کرنے کی کارروائی جاری رکھی گئی، جو عدالتی احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ واقعہ کی اطلاع فوری طور پر ریسکیو ہیلپ لائن 15 پر دی گئی،جس پر پولیس موقع پر پہنچی اور کارروائی کرتے ہوئے چار ٹریکٹر ٹرالیاں، ایک فرنٹ بلیڈ ٹریکٹر اور ایک ایکسویٹر (کھدائی مشین) کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ تاہم متاثرین کا کہنا ہے کہ اتنا وقت گزر جانے کے باوجود واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف تاحال کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا اور نہ ہی کوئی مؤثر قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ متاثرہ افراد نے ڈپٹی کمشنر خانیوال، اعلیٰ حکام محکمہ انہار، ریجنل پولیس آفیسر اور وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری کھال کی مبینہ غیر قانونی مسماری، عدالتی حکم کی خلاف ورزی اور سرکاری اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور سرکاری اراضی کو واگزار کرایا جائے۔واضح رہے کہ مذکورہ الزامات متاثرہ فریق کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں، جن کی متعلقہ حکام سے آزادانہ تصدیق ہونا باقی ہے۔
