مالی سال 2026-27ء کیلئے 18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا،اقتصادی ترقی، ٹیکس ریلیف، مہنگائی پر قابو پانے اور مختلف شعبہ جات کیلئے مراعات پر خصوصی توجہ مرکوز
اسلام آباد۔12جون ((پی ایم این/ویب ڈیسک)):آئندہ مالی سال 2026-27ء کیلئے 18 ہزار 771 ارب روپے کے مجموعی حجم کا حامل وفاقی بجٹ جمعہ کے روز قومی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا، جس میں اقتصادی ترقی، ٹیکس ریلیف، کم آمدنی والے طبقات، مہنگائی پر قابو پانے اور ہائوسنگ و تعمیرات، زراعت و صنعت سمیت مختلف شعبہ جات کیلئے مراعات پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جبکہ تنخواہ دار طبقے کیلئے ریلیف دیتے ہوئے ٹیکس کی شرح میں کمی اور سرچارج کو ختم کر دیا ہے، کم سے کم ماہانہ تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، ایف بی آر کے محصولات کاتخمینہ 15ہزار 264 ارب روپے رکھا گیا ہے، ہائوسنگ و زراعت سمیت قومی معیشت کے مختلف شعبہ جات کیلئے خصوصی مراعات کا اعلان کیا گیا ہے، سرکاری شعبہ کے ترقیاتی پروگرام کا حجم ایک ہزار ارب روپے جبکہ ملکی دفاع کیلئے 3 ہزار ارب روپے مختص کئے گئے ہیں، 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے کی آمدنی پر عائد سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے 838 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ وہ اپنی حکومت کا تیسرا بجٹ پیش کر رہے ہیں ،وہ اتحادی جماعتوں کی قیادت خصوصاً نوازشریف، بلاول بھٹو زرداری، خالد مقبول صدیقی، چوہدری شجاعت حسین، عبدالعلیم خان اور خالد حسین مگسی کی رہنمائی کیلئے شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ ایک ایسے موقع پر پیش کیا جا رہا ہے جب پاکستان اپنے عوام اور دنیا کی نظر میں ایک ایسے ملک کی حیثیت حاصل کر چکا ہے جس کی آواز سنی جاتی ہے اور جس کی دوستی کی خواہش کی جاتی ہے، یہ تبدیلی گزشتہ برس مئی میں بھارتی جارحیت کو پاکستان کی جانب سے منہ توڑ جواب دینے کے بعد ملی جس کے بعد پوری دنیا کو نوٹس لینا پڑا، ہماری مسلح افواج نے دشمن کو ایسا منہ توڑ جواب دیا کہ وہ چند گھنٹوں میں امن کی بات کرنے پر مجبور ہوا، یہ کامیابی دہائیوں کی پیشہ وارانہ تربیت اور تیاری کا نتیجہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن بنیان مرصوص کی کامیابی ہماری قومی تاریخ کا ایک روشن باب ہے، آج دنیا پاکستان کی دفاعی قوت کی معترف ہے ، یہی وجہ ہے کہ ہماری فضائوں کا تحفظ کرنے والے فائٹر جیٹس کو کئی ممالک اپنی فضائیہ میں شامل کرنے کیلئے پاکستان سے رابطے میں ہیں، ہماری دفاعی صنعت قیمتی زرمبادلہ کمانے کا بھی ایک ذریعہ بن چکی ہے ،یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مضبوط دفاع نہ صرف ہماری سالمیت کیلئے اہم بلکہ ملک کی معاشی ترقی کیلئے بھی معاون ثابت ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اسی دفاعی قوت نے نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں ہماری تزویراتی شراکت داری کا نقشہ نئے سرے سے ترتیب دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ خصوصی طور پر پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان باہمی دفاعی معاہدے کا ذکر کرنا چائیں گے، ہمارے دونوں ممالک کے درمیان ایمان اور بھائی چارے کا رشتہ پہلے سے موجود تھا تاہم اس باضابطہ دفاعی معاہدے کی وجہ سے خادمین حرمین الشریفین کے ساتھ ہمارے تعلقات اور برادرانہ رشتوں کو ایک نئی اور مستحکم بنیاد ملی ہے، یہ ہمارے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے لیکن ساتھ ہی ہمارے لیے ایک بھاری اور مقدس ذمہ داری بھی ہے جسے نبھانے کے لیے ہم پورے عزم اور یقین کے ساتھ سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے تعلقات میں یہ اہم تبدیلی ہماری قیادت کی مرہون منت ہے جس کے لیے وزیر اعظم پاکستان، فیلڈ مارشل اور ہماری پوری سفارتی اور عسکری قیادت یقینا ًمبارک باد کی مستحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے مہینوں میں خدائے بزرگ و برتر نے پاکستان کو ایک بے مثال کامیابی دلائی ہے۔ موجودہ دور کی ایک خطرناک ترین جنگ کے دوران امریکہ اور ایران نے پاکستان پر اعتماد کرتے ہوئے اسے اپنے درمیان ایک ایماندار ثالث کے طور پر قبول کیا۔ پاکستان نے اس کردار کو بخوبی انجام دینے کے لئے انتہائی مخلص کوششیں کی ہیں جو آج بھی جاری ہیں۔ ہم اسلام آباد پیس ٹاک کے ذریعے امریکہ اور ایران کو سینتالیس سال کے بعد ایک میز پر لانے میں کامیاب ہوئے۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ جلد ایک معاہدے کے ذریعے خطے میں دیرپا امن کے قیام کو ممکن بنایا جاسکے اور آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی پہلے کی طرح بحال کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی اور ایرانی صدور نے متعدد بار وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے بطور ثالث اہم کردار کی تعریف کی ہے۔ یہ وہ فقید المثال کامیابی ہے جس سے قوموں کی برادری میں ہمارا احترام اور وقار بڑھا ہے اور ہماری کاوشوں کو ہر سطح اور فورم پر سراہا گیا ہے۔ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان نے گزشتہ چند ماہ کے دوران خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی میں کمی کے لیے جو فعال، متوازن اور ذمہ دارانہ سفارتی کردار ادا کیا ہے، اس میں ہمیں اپنے عظیم اور آزمودہ ہمسایہ ملک چین کی مکمل حمایت اور ہم آہنگی حاصل رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان علاقائی امن و استحکام کے لیے مشترکہ اور مربوط امن کوششوں پر مکمل اتفاق رائے اور گہری ہم آہنگی موجود ہے۔ پاک چین تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہیں۔ یہ دوستی ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے۔ چین پاکستان کا سب سے اہم تجارتی شراکت دار ہے۔ یہ تعلق ایک ایسی اسٹریٹجک شراکت داری کی شکل اختیار کر چکا ہے جو محض حکومتوں تک محدود نہیں بلکہ دو اقوام کے دلوں اور تقدیر سے جڑا ہوا رشتہ ہے۔ وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کے حالیہ دورہ چین نے اس شراکت داری کونئی اور ٹھوس جہتیں عطا کی ہیں۔ تیل کی قیمتوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ایران امریکہ جنگ کی وجہ سے پیٹرول اور ڈیزل کی بین الاقوامی منڈیوں میں قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا۔
