لاہور(پی ایم این/ویب ڈیسک)یونیورسٹی میں صفائی کا کام کرنے والی ایک خاتون نے ایک سال تک خود پڑھائی کرکے ماسٹر پروگرام میں داخلہ لے لیا،
33 سالی لی جیا کا تعلق چین کے صوبے سیچوان کے علاقے چینگڈو سے ہے اور وہ چینگڈو یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی میں کل وقتی کلینر کے طور پر کام کرتی ہیں۔مالی حالات خراب ہونےپرخاتون نےیونیورسٹی میں صفائی کا کام شروع کر دیا، جس کی وجہ گھر کے قریب ہونا اور کام کے لچکدار اوقات تھے، جس سے انہیں بچوں کا خیال رکھنے میں مدد ملتی تھی۔
صفائی کے کام کے دوران وہ اکثر چین کے نیشنل ایگزم کے وینیو بھی جاتی تھیں اور ملک بھر سے آنے والے طالبعلموں سے ملتی تھیں۔انہوں نے بتایا کہ کچھ طالبعلم اسٹریٹ لائٹس کی روشنی یں پڑھتے تھے جبکہ کچھ ایسے تھے جن کے بالوں میں سفیدی آچکی تھی اور پھر بھی امتحان دے رہے ہوتے تھے۔
دوستانہ فطرت کی مالک لی جیا ایسے متعدد طالبعلموں سے انٹرنیٹ کے ذریعے رابطے میں رہیں اور ہر سال امتحانات کے موقع پر ان کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ ان افراد کی پوسٹس سے بھر جاتا۔ان طالبعلموں سے متاثر ہوکر خاتون اپنے بچوں کے لیے ایک مثال بننا چاہتی تھیں اور اسی لیے انہوں نے ماسٹر ڈگری کے داخلہ امتحان میں شرکت کا فیصلہ کیا۔
انہوں نے ایک ووکیشنل اسکول سے تعلیم حاصل کی تھی اور گریجویشن ڈگری سے محروم تھیں اور ماسٹر ڈگری میں داخلے کے لیے انہیں 2 اضافی مضامین کے امتحانات دینا تھے۔ان کے پاس محض 8 ماہ تھے جس کے بعد ابتدائی امتحانات ہونا تھے اور ان پر کام کا دباؤ بھی تھا۔تو وہ صبح 6 بجے یونیورسٹی آتیں، سیاست اور انگلش کے لیکچر ہیڈفونز سے سنتے ہوئے صفائی کرتیں۔ان کے شوہر نے بھی لی جیا کو مکمل تعاون فراہم کیا اور اپریل 2026 میں لی جیا کو 3 سالہ ماسٹر پروگرام میں داخلہ مل گیا۔

