ا سلام آباد(پی ایم این/ویب ڈیسک)معرکہ حق کو قومی قوت، استقامت اور اسٹریٹجک بصیرت کا ایک فیصلہ کن لمحہ قرار دیا گیا۔ بھارت کی بلااشتعال جارحیت کے مقابلے میں پاکستان کا ردعمل مضبوط، متوازن اور کامیاب رہا۔ اس نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری کے دفاع کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ ذمہ داری، تحمل اور اسٹریٹجک پختگی کے ساتھ عمل پیرا رہتا ہے۔ پاک مسلح افواج کو ان کی پیشہ ورانہ مہارت اور تیاری پر خراجِ تحسین پیش کیا گیا، جن کے طرزِ عمل نے نہ صرف وطن کے دفاع میں قوت کا اظہار کیا بلکہ دباؤ کے باوجود نظم و ضبط اور اشتعال کے مقابلے میں اعتماد کو بھی ظاہر کیا۔
ان خیالات کا اظہار ممتاز مقررین نے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن اور نیویارک میں پاکستان کے قونصلیٹ جنرل کے زیرِ اہتمام معرکہ حق کی پہلی سالگرہ کے موقع پر منعقدہ خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
مقررین نے واضح کیا کہ پاکستان کے امن کے عزم کو کمزوری نہیں سمجھا جا سکتا۔
مقررین نے زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے تمام تنازعات، خصوصا مسئلہ جموں و کشمیر کا حل، اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق پرامن طور پر حل کیا جانا ناگزیر ہے۔
اس موقع پر خطاب کرنے والوں میں قونصل جنرل پاکستان نیویارک جناب عامر احمد آتوزئی، سینیٹر رانا محمود الحسن، ڈاکٹر غلام مجتبی (چیئرمین پاکستان پالیسی انسٹی ٹیوٹ)، ڈاکٹر غلام نبی فائی (سیکرٹری جنرل ورلڈ کشمیر اویرنیس فورم)، جناب علی راشد (کمیونٹی لیڈر)، جناب تاج خان (کشمیری کارکن) اور پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوامِ متحدہ سفیر عاصم افتخار احمد شامل تھے۔
اپنے کلیدی خطاب میں پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے پاک مسلح افواج کی جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا، اور پاکستانی عوام کے عزم، اتحاد اور استقامت کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق پاکستان کی حالیہ تاریخ کا ایک فیصلہ کن لمحہ ہے جو قومی عزم، اسٹریٹجک بصیرت اور خودمختاری و علاقائی سالمیت کے دفاع کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ بھارت کی بلااشتعال جارحیت کے مقابلے میں پاکستان کا ردعمل مضبوط، متوازن اور ذمہ دارانہ تھا، جس نے فوجی تیاری اور اسٹریٹجک تحمل دونوں کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق نے بھارت کے جارحانہ عزائم، پروپیگنڈے اور جھوٹے بیانیے کو بے نقاب کیا، جبکہ پاکستان کے اصولی موقف کو مزید مضبوط کیا کہ جارحیت کا جواب عزم سے، پروپیگنڈے کا جواب سچ سے، اور کشیدگی کا جواب تحمل سے دیا جائے۔
انہوں نے پاکستان کی سفارت کاری، خصوصا اقوام متحدہ میں اس کے موثر کردار کو اُجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے عالمی برادری کے سامنے اپنا موقف بھرپور انداز میں پیش کیا اور کشیدگی میں اضافے کے خطرات سے آگاہ کیا۔
امن کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مسئلہ جموں و کشمیر کا منصفانہ اور پرامن حل ناگزیر ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور امن پسند ملک ہے جو مکالمے، استحکام اور باہمی احترام پر مبنی پرامن بقائے باہمی کا خواہاں ہے۔
موقع پر خطاب کرتے ہوئے سینیٹر رانا محمود الحسن نے کہا کہ معرکہ حق برصغیر کی تاریخ میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، جس نے پاکستان کی عسکری قوت، قومی اتحاد اور اسٹریٹجک عزم کو واضح طور پر اُجاگر کیا۔
اپنے ابتدائی کلمات میں قونصل جنرل عامر احمد آتوزئی نے پاکستان کے امن، مکالمے اور علاقائی استحکام سے وابستہ مستقل عزم کو اُجاگر کیا۔
ڈاکٹر غلام نبی فائی نے کہا کہ معرکہ حق نے پاکستان کے بین الاقوامی وقار کو مزید بلند کیا، جس نے سفارتی پختگی، عسکری صلاحیت اور قومی عزم کا واضح اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے غیر قانونی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کے عوام نے پاکستان کی کامیابی کا خیرمقدم کیا اور اس بات کو تسلیم کیا کہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط پاکستان ناگزیر ہے۔
کشمیری رہنما تاج خان نے کہا کہ معرکہ حق پاکستان اور کشمیر دونوں کے لیے فخر کا لمحہ ہے، جو امن اور استحکام کے چیلنجز کے مقابلے میں مشترکہ استقامت اور یکجہتی کی عکاسی کرتا ہے۔
