ڈپٹی چیف آف ائیر اسٹاف پراجیکٹس ائیر وائس مارشل طارق غازی کا کہنا ہے کہ اب ہم 0-8 پر ہیں، ہم نے بھارت کے 8 جہاز گرائے، جن میں 4 رافیل، ایس یو 30، مگ 29، میراج 2000 شامل ہے، بھارت کا ایک انتہائی مہنگا کثیر الجہتی خود کار ایئریل سسٹم بھی تباہ کیا۔
معرکۂ حق کو ایک سال مکمل ہونے پر پاک فضائیہ اور بحریہ کے افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ اللّٰہ کے فضل اور رحمت سے مسلح افواج قوم کی امنگوں پر پورا اتری۔
اس موقع پر ڈپٹی چیف آف ائیر اسٹاف پروجیکٹس نے کہا کہ معرکہ حق کے دوران پاک فضائیہ دشمن کی ہر سرگرمی نوٹ کر رہی تھی، ہم نے ٹرائی سروس پلانز کی گائیڈنس طے کی، بھارت آج تک سمجھنے کی کوشش کر رہا ہے کہ آخر ہوا کیا تھا، دشمن ہمارے بارڈر تک آنے کی جرات نہیں کر سکتا تھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ غضب للحق نیشنل رسپانس آن ٹیررازم کا ایک حصہ ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ پاکستان کے خلاف افغانستان کی سرزمین کو استعمال نہ ہونے دیں، ہر قسم کے دہشتگرد کو افغانستان پناہ دینے کیلئے تیار ہے، ہم پاکستان کے عوام سے ہیں اور پاکستان کی عوام ہم سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ تھا، ہے اور رہے گا، کشمیر کا مستقبل اس کے عوام نے طے کرنا ہے، کشمیری عوام نے طے کرنا ہے کہ انہوں نے کیا کرنا ہے، پاکستان اور کشمیری عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں ، یہ سفر ہم نے طے کرنا ہے اور یہ ہم نے حق خود ارادیت کے ذریعے طے کرنا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ بھارت کے ذہن میں کہاں سے یہ خبط آگیا کہ اکھنڈ بھارت بنے گا! بھارت کے ذہن میں کہاں سے یہ خبط آگیا کہ وہ خطے کے عوام کی تقدیر کا فیصلہ کریں گے۔
ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ طارق غازی نے بھی کہا کہ ہم مستقبل کی جنگ کی تیاری کر رہے ہیں، یہ دنیا تو آنی جانی چیز ہے، شہید کی موت اس کا زیور ہوتی ہے، جتنا وہ زندگی سے پیار کرتے ہیں، اتنا پیار ہمیں شہادت سے ہے، ایئرفورس کا پائلٹ جب جہاز میں جا رہا تھا تو اس کے ذہن میں ڈر نہیں تھا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ بھارت پراکسیز کو بھی لانچ کرکے دیکھ لے، خارجیوں کے خلاف جو افسر لڑ رہے ہیں انہیں کوئی پریشانی نہیں، یہ ہمارا حوصلہ ہے، ہم اسے بھی کہتے تھے کہ ہم سے پنگا نہ کرنا، جتنی شہادتیں ہم نے دی ہیں دنیا میں کسی کی نہیں، یہ ملک اللّٰہ کا تحفہ ہے، یہ کوئی عام ملک نہیں، ہمیں اپنے اوپر، اپنی قوم پر بھروسہ ہے اور قوم کو افواج پر بھروسہ ہے، پاک فوج ایلیٹ کی نہیں، غریب کی فوج ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کےتعلقات بہت گہرے اور کثیرالجہتی ہیں، سعودی عرب کو تھریٹ ہمارے لیے بھی خطرہ ہے۔
