اسلام آباد(پی ایم این/ویب ڈیسک)وفاقی وزیر احسن اقبال سے وزیراعلٰی کے پی سہیل آفریدی نے ملاقات کی ہے جس میں انہوں نےاین ای سی اجلاس،صوبے کے مالی معاملات اور بانی سے ملاقات کروانے کی درخواست بھی کی۔
ملاقات میں وزیر اعلی سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک جاری رہا تو این ای سی اجلاس میں شرکت مشکل ہوگی، بجٹ سے متعلق اہم فیصلوں کے لیے بانی سے مشاورت اورمنظوری ناگزیرہے ، تمام سیاسی جماعتیں بڑے فیصلوں سے قبل اپنی قیادت سے مشاورت کرتی ہیں ، صوبائی حکومت بھی اسی اصول پر عمل پیرا ہے، وفاقی حکومتی ٹیم کو بانی سے ملاقات کے فوری انتظامات کی ضرورت سے آگاہ کر دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اے آئی پی کی مد میں فنڈز 37 ارب روپے سے کم کر کے 27 ارب روپے کر دیے گئے، ضم شدہ اضلاع کے ترقیاتی اے آئی پی کے بجٹ 66 ارب روپے سے کم کر کے 56 ارب روپے کر دیے گئے، ضم شدہ اضلاع کا این ایف سی حصہ گزشتہ آٹھ سال سے روکا جا رہا ہے، وفاقی نمائندوں سے ہر ملاقات کے بعد مسائل کے حل کے بجائے صوبے کے ساتھ مزید ناانصافی بڑھ جاتی ہے، سوات میں مکمل شدہ ڈیم منصوبے کے آغاز کے لیے چینی انجینئروں کو این او سی جاری نہیں کی جا رہی ہے ۔ وفاقی حکومت خیبرپختونخوا کے آئینی، مالی اور ترقیاتی حقوق کی فراہمی یقینی بنائے۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے بس ٹرمینل کے لیے این او سی چوبیس گھنٹوں میں فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔
