فائل فوٹو

لاہور(پی ایم این/ویب ڈیسک)وزیرخزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے اعلان کیا ہے کہ پنجاب کا مالی سال 2026-27 کا بجٹ 16 جون کو پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پہلی بار پری بجٹ کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت ہے کہ بجٹ میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔

  مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے کہا کہ کانفرنس میں موصول ہونے والی سفارشات کو بجٹ کا حصہ بنایا جائے گا جبکہ پنجاب اسمبلی میں بھی پری بجٹ مباحثوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں تاخیر کے باعث صوبائی بجٹ کی تیاری کا عمل بھی متاثر ہوا ہے۔مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال کے دوران حکومت کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، تاہم سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے 25 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ کفایت شعاری پالیسی کے تحت ارکان اسمبلی کے فنڈز میں 25 فیصد جبکہ سرکاری افسران کی تنخواہوں میں 2 سے 3 فیصد کٹوتی کی گئی اور پیٹرول کے اخراجات میں بھی 50 فیصد کمی لائی گئی۔وزیر خزانہ کے مطابق حکومت پنجاب گڈز ٹرانسپورٹ سبسڈی کی مد میں وفاق کو 25.8 ارب روپے فراہم کر رہی ہے۔ اسی طرح 2 لاکھ 20 ہزار موٹرسائیکل سواروں کو مالی معاونت دی جا رہی ہے جبکہ کسانوں اور موٹرسائیکل مالکان کے لیے پیٹرول سبسڈی کی مد میں 9 ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ عوام کو مفت سفری سہولیات کی فراہمی پر اب تک ایک ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب کے 100 سے زائد خصوصی ترقیاتی منصوبوں پر کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ ستھرا پنجاب پروگرام حکومت کا دوسرا بڑا فلیگ شپ منصوبہ ہے جس پر اب تک 205 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت صوبے کے 41 شہروں میں صفائی کا جدید نظام فعال بنایا گیا ہے۔آسان کاروبار پروگرام کے تحت 117 ارب روپے کے قرضے جاری کیے گئے ہیں جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار افراد اس اسکیم سے مستفید ہو چکے ہیں۔ اسی طرح کسان کارڈ پروگرام کے ذریعے 8 لاکھ کسانوں کو 251 ارب روپے فراہم کیے جا چکے ہیں۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ گزشتہ دو برسوں میں 20 ہزار کسانوں کو سبسڈائزڈ ٹریکٹر فراہم کیے گئے جبکہ متعدد ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کیا گیا ہے۔ماحولیاتی بہتری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فضائی اور ماحولیاتی آلودگی کی نگرانی پر 10 ارب روپے خرچ کیے گئے ہیں۔ پنجاب میں 1100 الیکٹرک بسیں متعارف کرانے کا پروگرام شروع کیا گیا ہے جبکہ مختلف اضلاع میں اس وقت 500 ای وی بسیں چل رہی ہیں۔مجتبیٰ شجاع الرحمان کے مطابق مساجد کے آئمہ کرام کے ماہانہ وظائف کے لیے 9 ارب 22 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ 90 کروڑ روپے کی لاگت سے ای ٹیکسی اسکیم کا آغاز کیا گیا ہے۔ راشن کارڈ پروگرام کے لیے 25 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 513 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ مری ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 10 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ تعلیم کے شعبے کے لیے 670 ارب روپے مختص کیے گئے تھے جن میں سے 100 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص تھے۔
اپنا چھت اپنا گھر پروگرام کے حوالے سے وزیر خزانہ نے کہا کہ ایک لاکھ 60 ہزار افراد کو بلاسود قرضے فراہم کیے جا چکے ہیں، ایک لاکھ سے زائد گھر مکمل ہو چکے ہیں جبکہ 7 ہزار گھر زیر تعمیر ہیں۔

 

By PMN