ایران اور امریکہ کے درمیان ایک بار پھر بات چیت اور معاہدہ پر اتفاق کے قریب پہنچنے کی خبریں عالمی میڈیا پر چھائی ہوئی ہیں۔ تاہم تہران سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایرانی پوزیشن میں کوئی بنیادی فرق سننے میں نہیں آیا۔ اس وقت امریکہ کی طرف سے امن معاہدہ کی تجاویز تہران کے زیر غور ہیں اور صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر ایران اب بھی راضی نہ ہوا تو پہلے سے بھی بڑی تباہی ہوگی۔
اس سے پہلے پاکستان اور چند دوسرے ملکوں کی درخواست پر امریکی صدر نے ’پراجیکٹ فریڈم‘ کے نام سے آبنائے ہرمز سے پھنسے ہوئے جہاز نکالنے کی کارروائی کو معطل کیا تھا اور کہا تھا کہ ایران کے ساتھ سفارتی کامیابی کا امکان پیدا ہوا ہے اور ’ہم درست لوگوں سے بات کر رہے ہیں۔ دیکھنا ہو گا کہ کیا وہ معاہدہ کرنے کا حوصلہ بھی کر سکتے ہیں یا نہیں‘ ۔ اس سے پہلے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک پریس بریفنگ میں کہا تھا کہ امریکہ کا ایران کے خلاف آپریشن ’ایپک فری‘ ختم ہو گیا ہے لیکن ’پراجیکٹ فریڈم‘ دفاعی نوعیت کی کارروائی ہے جس میں دو ماہ سے پھنسے ہوئے جہازوں کو نکالا جائے گا۔ ہم اس دوران فائر نہیں کرنا چاہتے لیکن ہم پر حملہ ہوا تو سخت جواب دیا جائے گا۔ صدر ٹرمپ امریکی بحریہ پر حملہ کی صورت میں ایران کو نیست و نابود کرنے کی دھمکیاں بھی دیتے رہے ہیں۔
’پراجیکٹ فریڈم‘ روکنے کے اعلان کو ایران اپنی فتح قرار دے رہا ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ بمباری سے ایران کو جھکانے میں ناکام ہونے کے بعد اب امریکہ اپنی بحری طاقت کے باوجود آبنائے ہرمز کھلوانے میں کامیاب نہیں ہوا۔ ایران نواز تبصرہ نگار بھی اسے امریکہ کی شکست یا ہزیمت قرار دیتے ہیں۔ تاہم امریکی صدر کی طرف سے اس منصوبے کو مؤخر کرنے کی کوئی بھی وجہ ہو لیکن اس اعلان کے بعد ایک تو تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں میں کمی کا رجحان دیکھنے میں آیا تو دوسری طرف یہ خبریں عام ہوئیں کہ اب پاکستان کے ذریعے چند ایسے نکات پر اتفاق ہو رہا ہے جس کے نتیجہ میں امریکہ باقاعدہ جنگ بند کرنے اور ایران آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ البتہ واشنگٹن یا تہران سے اس بارے میں تصدیق نہیں ہو سکی۔ اسلام آباد میں ڈپٹی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بی بی سی کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سفارتی کوششیں جاری ہیں لیکن پاکستان فریقین کی اجازت کے بغیر کوئی معلومات فراہم نہیں کرے گا۔
پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے دوران نہایت محتاط رویہ اختیار کیا ہے اور باہمی مواصلت کو بڑی حد تک صیغہ راز میں رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ تاہم اس دوران ’پراجیکٹ فریڈم‘ رکوانے میں کامیابی حاصل کرنے کے علاوہ پاکستان نے مبینہ طور پر کچھ ایسی تجاویز تیار کرنے میں بھی کردار ادا کیا ہے جن پر ایران اور امریکہ کا اتفاق رائے ہو سکتا ہے۔ اب تہران کی طرف سے امریکہ کی منظور کردہ تجاویز پر حتمی فیصلے کا انتظار ہو رہا ہے۔ اس دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بیجنگ کا دورہ کیا ہے جس میں ان کی چینی وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات ہوئی ہے۔ خبروں کے مطابق چین نے ایران پر واضح کیا ہے کہ اب وہ مزید جنگ نہیں چاہتا۔ اس تنازعہ کا کوئی دیرپا حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ نے اس ملاقات کو مثبت قرار دیتے ہوئے ایکس پر لکھا ہے کہ ’چین نے ایران کے قومی اقتدارِ اعلیٰ اور قومی وقار کے تحفظ کے حق کی توثیق کی ہے‘ ۔ ایرانی وزیر خارجہ نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے چینی حکومت کی تجویز کو سراہا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران، چین پر اعتماد کرتا ہے اور توقع کرتا ہے کہ وہ امن کے فروغ اور جنگ کے خاتمے کے لیے مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔
تاہم چین کی طرف سے جنگ کی بجائے امن کی تجویز اور صدر ٹرمپ کی طرف سے پراجیکٹ فریڈم کے نام سے شروع ہونے والی فوری اشتعال انگیزی اور تصادم کے اندیشے کو ٹالنے سے یہ امید کو بحال ہوئی ہے کہ فریقین اب بھی کسی حل تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ تاہم تہران خواہ پراجیکٹ فریڈم میں تعطل کو اپنی کامیابی ہی سمجھے لیکن اسے اسے غلط فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے کہ ایران، امریکہ کی عسکری قوت کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ اس قسم کے دعوے نعرے لگانے اور عوام کو مطمئن کرنے یا غیر ضروری تبصروں کا پیٹ بھرنے کے لیے تو کارآمد ہوسکتے ہیں لیکن ان کا زمینی حقیقت اور فریقین کی صلاحیت سے کوئی تال میل نہیں ہوتا۔ ایران کے لیے بہتر ہو گا کہ وہ کچھ باتیں منوا کر اور کچھ مان کر کسی معاہدے پر اتفاق کر لے۔ اگر یہ موقع بھی ضائع کر دیا گیا اور امریکی صدر نے مایوس ہو کر ایک بار پھر جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کیا تو اس کا تباہی کے سوا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔
’پراجیکٹ فریڈم‘ روکنے کو بھی امریکہ کی پسپائی سمجھنا، عاقبت نا اندیشی ہوگی۔ یہ درست ہے کہ امریکی صدر متعدد باتیں کرتے ہیں اور فیصلے کرنے کے بعد انہیں تبدیل کرنے کا رویہ بھی دیکھنے میں آتا رہا ہے۔ تاہم پراجیکٹ فریڈم روکنے کا اعلان امریکی صدر کے اس حوصلہ کا اظہار بھی ہے کہ وہ کسی بڑی جنگ یا تباہی کی بجائے بات چیت کے ذریعے معاملہ طے کرنا چاہتے ہیں۔ اسے امریکی کمزوری یا شکست قرار دینے کی بجائے، ایک غنیمت موقع سمجھ کر ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے جو اس سے ایران کو حاصل ہوا ہے۔
صدر ٹرمپ نے تھوڑی دیر پہلے بھی وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ’ہم اسے (افزودہ یورینیم) حاصل کر لیں گے‘ ۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ امریکہ یہ کام کیسے کرے گا تو صدر نے دوبارہ یہی جواب دیا کہ ’ہم اسے حاصل کریں گے‘ ۔ اس طرح یہ واضح ہو رہا ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام امریکہ کی ریڈ لائن ہے۔ تہران کو یہ امید نہیں رکھنی چاہیے کہ واشنگٹن ’مجبور‘ ہو کر افزودہ یورینیم کے بارے میں کسی معاہدے کے بغیر جنگ بند کرنے اور امن معاہدہ پر راضی ہو جائے گا۔ اسی طرح امریکہ کو آبنائے ہرمز کے سوال پر ایران کو کچھ رعایت دینا پڑے گی۔ امریکہ بظاہر ایسے کسی حل پر آمادہ دکھائی دیتا ہے لیکن اگر ایران نے اصرار کیا کہ وہ حتمی جنگ بندی اور بلاکیڈ ختم ہونے سے پہلے جوہری ہتھیاروں کے سوال پر بات نہیں کرے گا تو باہمی معاہدے کی ہر امید ختم ہو سکتی ہے۔
امریکی صدر مئی کے وسط میں دورہ چین سے پہلے اس تنازعہ کا کوئی حل دیکھنا چاہتے ہیں۔ ایران کو بھی روایتی سست روی اور زیادہ سے زیادہ وقت لینے کی پالیسی ترک کر کے دو ٹوک اور واضح انداز میں معاملات طے کر لینے چاہئیں۔ اس جھگڑے کو بڑھانے میں سب کا نقصان ہے لیکن اس میں شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ تنازعہ جاری رہنے میں سب سے زیادہ خسارہ ایران کو ہی ہو گا۔ اسے اس سے بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہی ایرانی عوام کی خواہش اور ضرورت ہے۔