اسلام آباد۔27فروری(پی ایم این):افغانستان سے ہونے والے دہشت گرد حملوں اور فوجی اشتعال انگیزیوں کے خلاف پاکستان کی اپنے دفاع کے تحت کارروائیاں،افغان سرزمین سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی جانب سے پاکستان کے خلاف بار بار ہونے والے دہشت گرد حملوں، نیز 26 فروری کی شب طالبان حکومت کی تازہ بلاجواز اور اشتعال انگیز کارروائیوں کے جواب میں پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے نہایت درست اور ہدفی آپریشنز انجام دیتے ہوئے دہشت گرد تنظیموں کو بھاری نقصان پہنچایا اور افغانستان میں موجود ان کے لاجسٹک سپورٹ مراکز کو نشانہ بنایا۔دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق پاکستان کی یہ کارروائیاں اپنے حقِ دفاع کے تحت کی گئیں تاکہ اپنے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے ساتھ ساتھ خطے اور اس سے باہر کے امن و سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔طالبان حکومت کی جانب سے کسی بھی مزید اشتعال انگیزی یا کسی بھی دہشت گرد گروہ کی طرف سے عوامِ پاکستان کے امن و سلامتی اور فلاح و بہبود کو نقصان پہنچانے کی کسی کوشش کا بھرپور، متناسب اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
پاکستان خطے میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے اور افغان سرزمین سے جنم لینے والی دہشت گردی کے مسئلے کے حل کے لئے صبر و تحمل کے ساتھ سیاسی اور سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے تاہم یہ افسوسناک امر ہے کہ پاکستان کی متعدد خیرسگالی کی کاوشوں اور نہایت ذمہ دارانہ طرزِ عمل کو غلط سمجھا گیا جس کے نتیجے میں افغان سرزمین سے دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا جنہیں طالبان حکومت اور بھارت کی فعال حمایت اور پشت پناہی حاصل رہی۔پاکستان،افغانستان سے ابھرنے والی دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کے اپنے عزمِ صمیم کا اعادہ کرتا ہے اور افغان حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کو افغان سرزمین سے بلا روک ٹوک کارروائیوں کی اجازت دینے کا سلسلہ بند کرے،ہم توقع کرتے ہیں کہ بین الاقوامی برادری بھی اپنا کردار ادا کرتے ہوئے طالبان حکومت کو واضح پیغام دے گی کہ وہ ان دہشت گرد تنظیموں کے خلاف ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات کرنے کی اپنی ذمہ داری سے روگردانی نہ کرے اور ان کی حمایت ختم کرے۔
پاکستان اقوام متحدہ کے منشور سمیت بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے حقِ دفاع کے تحت اپنے شہریوں کے تحفظ کے لئے ہر مناسب اقدام اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔