جدہ ۔27فروری (پی ایم این):نائب وزیراعظم اوروزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے حصول کےلئے جامع غزہ امن منصوبہ، بورڈ آف پیس، مسئلہ فلسطین کے پرامن حل پر اعلیٰ سطحی کانفرنس اور دو ریاستی حل کےلئے عالمی اتحاد سمیت تمام سفارتی اقدامات میں بھرپور کردار کےلئے تیار ہے، فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کےلئے ہماری حمایت غیر متزلزل اور دائمی ہے، مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور بھارتی غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے حالات میں مماثلت واضح ہے، کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت پر او آئی سی کے شکر گزار ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کو یہاں اسلامی تعاون تنظیم کی ایگزیکٹو کمیٹی کے غیر معمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے شرکا کو ماہ رمضان کی دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کرے یہ بابرکت مہینہ امت مسلمہ اور پوری دنیا کےلئے امن، خوشحالی اور انصاف کا پیامبر ثابت ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں بستیوں کی توسیع، الحاق اور نام نہاد خودمختاری مسلط کرنے جیسے غیر قانونی اقدامات کے تناظر میں منعقد ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم سعودی عرب کی مدبرانہ قیادت کے بھی شکر گزار ہیں جو او آئی سی اور امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں مسلسل معاونت فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے او آئی سی کے سیکرٹری جنرل اور ان کی ٹیم کا بھی اجلاس کی بہترین تیاریوں پر شکریہ ادا کیا۔ نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ ہم ایک نہایت نازک مرحلے پر جمع ہوئے ہیں، مسئلہ فلسطین امت مسلمہ کا مرکزی مسئلہ اور اس تنظیم کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ پیش رفت نہ صرف فلسطینی عوام بلکہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور کثیرالجہتی نظام کی ساکھ کےلئے بھی سنگین مضمرات رکھتی ہے۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ جنگ بندی کو مستحکم بنانے اور غزہ تنازعہ کے خاتمے کے جامع منصوبے پر عملدرآمد کےلئے سفارتی کوششیں جاری ہیں تاہم اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور الحاق کی کوششیں منصفانہ اور پائیدار امن کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ستمبر 2025ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر پاکستان سمیت آٹھ عرب۔
اسلامی ممالک کے رہنمائوں نے امریکی صدر سے غزہ میں خونریزی کے خاتمے، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی، مستقل جنگ بندی اور جامع امن عمل کے فروغ کےلئے بات چیت کی، ہمیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ مغربی کنارے کا الحاق نہیں ہوگا لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں، اسرائیل غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور عملی الحاق جاری رکھے ہوئے ہے جو بین الاقوامی قانون اور قرارداد 2803 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مقبوضہ مغربی کنارے کو نام نہاد ”ریاستی ملکیت“ میں تبدیل کرنے جیسے حالیہ اقدامات کی شدید مذمت کرتا ہے۔ نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان آٹھ عرب-اسلامی ممالک کے گروپ کا حصہ ہونے کے ناطے مستقل جنگ بندی، فوری تعمیرِ نو اور 1967ء کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر متصل فلسطینی ریاستِ کے قیام کےلئے ایک قابل اعتبار اور وقت کے تعین شدہ سیاسی راستے کی حمایت جاری رکھے گا جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اجتماعی طور پر یہ یقینی بنانا ہوگا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے عملی الحاق کے تمام اقدامات کا فوری خاتمہ ہو، مقدس مقامات خصوصاً مسجد اقصیٰ کی تاریخی اور قانونی ”سٹیٹس کو“ کا تحفظ
جبری بے دخلی اور آبادیاتی تبدیلیوں کا خاتمہ، سلامتی کو نسل کی قرارداد 2803 پر مکمل عملدرآمد، غزہ کی فوری تعمیرِ نو اور بحالی کا آغاز مکمل فلسطینی ملکیت اور فلسطینی اتھارٹی کے مرکزی کردار کے ساتھ، جنگی جرائم پر احتساب اور دو ریاستی حل کی جانب ناقابل واپسی سیاسی پیش رفت کی جائے۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے قرارداد 2803 کے تحت بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کی ہے، وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 19 فروری کو واشنگٹن ڈی سی میں بورڈ آف پیس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی اور فلسطین کے حوالے سے پاکستان کے اصولی موقف کا اعادہ کیا۔سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے حالیہ اشتعال انگیز بیانات کی شدید مذمت کرتا ہے جن میں عرب ریاستوں کے علاقوں پر اسرائیلی کنٹرول کو قابل قبول قرار دیا گیا، ایسے بیانات بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے منافی اور خطے کے امن کےلئے خطرناک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے برادر عرب ممالک کے ساتھ ان کی علاقائی سالمیت کے دفاع میں کھڑا ہے۔ پاکستان کے موقف کا اظہار 14 عرب اسلامی ممالک، او آئی سی، عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل کے ساتھ بھی مشترکہ طور پر کیا گیا ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور بھارتی غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے حالات میں مماثلت واضح ہے، ہم کشمیری عوام کے حق خودارادیت کی حمایت پر او آئی سی کے شکر گزار ہیں اور اس مسئلہ کے منصفانہ حل کےلئے مزید اقدامات کی اپیل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جامع غزہ امن منصوبہ، بورڈ آف پیس، فلسطین کے پرامن تصفیے سے متعلق اعلیٰ سطح کی کانفرنس اور دو ریاستی حل کےلئے عالمی اتحاد سمیت تمام سفارتی اقدامات میں بھرپور کردار ادا کرتا رہے گا، فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کےلئے ہماری حمایت غیر متزلزل اور دائمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ امت مسلمہ کے لیے ایک فیصلہ کن لمحہ ہے، فلسطینی عوام کو محض بیانات نہیں بلکہ عملی اقدامات درکار ہیں۔ نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اپنے برادر او آئی سی ممالک کے ساتھ اتحاد، عزم اور مقصد کے ساتھ اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔