معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کارحجان جاری رہنے کاامکان ہے ،فروری میں افراطِ زر کی شرح چھ سے لے کرسات فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے، وفاقی وزارت خزانہ

اسلام آباد۔27فروری (پی ایم این):وفاقی وزارت خزانہ نے کہاہے کہ جاری مالی سال کے دوران معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کارحجان جاری رہنے کاامکان ہے جس کی بنیادی وجہ پائیدار معاشی استحکام، مہنگائی کے دباؤ میں کمی اور بہتر مالیاتی پوزیشن ہے،فروری میں افراطِ زر کی شرح چھ سے لے کرسات فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔یہ بات وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ماہانہ اقتصادی اپ ڈیٹ میں کہی گئی ۔وزارت خزانہ کے مطابق موافق زری پالیسی، مسلسل مالیاتی نظم و ضبط اورڈھانچہ جاتی اصلاحات کے ساتھ مل کر کاروباری اعتماد اور نجی شعبے کی سرگرمیوں کو مزید تقویت ملنے کی توقع ہے،فروری میں افراطِ زر کی شرح 6.0 سے 7.0 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ معاشی نمو کا انحصار بڑے پیمانے کی صنعتوں (ایل ایس ایم) میں بحالی، ترسیلاتِ زر میں بہتری اور زرعی شعبے کی مستحکم کارکردگی پر ہوگا جبکہ مستحکم شرحِ مبادلہ اور حسابِ جاریہ کے کھاتوں پر قابو پائے گئے دباؤ کے باعث بیرونی شعبہ قابلِ انتظام رہنے کی توقع ہے تاہم خصوصاً جغرافیائی و سیاسی غیر یقینی صورتحال اور عالمی کموڈیٹی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث منفی پہلو کے خطرات بدستور موجود ہیں۔ اس کے باوجود محتاط معاشی نظم و نسق سے مجموعی استحکام کے تحفظ کی توقع کی جا رہی ہے۔

کموڈیٹی منڈیوں میں جنوری کے دوران توانائی کی قیمتوں کے اشاریے میں 12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی بنیادی وجہ امریکا میں قدرتی گیس کی قیمتوں میں 78.4 فیصد کا نمایاں اضافہ اور خام تیل کی قیمت میں 4.6 فیصد کا اضافہ تھا۔ اسی طرح غیر توانائی اشاریہ میں 2.9 فیصد اضافہ ہوا،اسی عرصے میں عالمی منڈیوں میں خام مال کی قیمتوں میں 1.3 فیصد، کھاد کی قیمتوں میں 2.4 فیصد جبکہ دھاتوں اور قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں بالترتیب 9.3 فیصد اور 17.0 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے سات ماہ میں سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر کا حجم 23.2 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 20.8 ارب ڈالر کے مقابلے میں 11.3 فیصد زیادہ ہے،اس عرصے کے دوران ملکی برآمدات کا حجم 18.3 ارب ڈالر رہا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 19.3 ارب ڈالر کے مقابلے میں 5.5 فیصد کم ہے،جاری مالی سال کے پہلے سات ماہ میں درآمدی بل 36.7 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 33.4 ارب ڈالر کے مقابلے میں 9.8 فیصد زیادہ ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال کے پہلے سات ماہ میں حسابِ جاریہ کا کھاتوں کاخسارہ 1.074 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا، گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں حسابِ جاریہ کے کھاتوں کا توازن 564 ملین ڈالر فاضل تھا۔ رپورٹ کے مطابق جاری مالی سال کے پہلے سات ماہ میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) کا حجم 981.4 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا، گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا حجم 1.660 ارب ڈالر تھا۔ اعداد و شمار کے مطابق 13 فروری 2026 کو ملکی زرِ مبادلہ کے مجموعی ذخائر کا حجم 21.3 ارب ڈالر تھا۔ اس میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے پاس زرِ مبادلہ کے ذخائر 16.2 ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں کے پاس 5.1 ارب ڈالر تھے،گزشتہ سال 26 فروری کو ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائر کا حجم 15.9 ارب ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا، جس میں اسٹیٹ بینک کے پاس 11.2 ارب ڈالر اور کمرشل بینکوں کے پاس 4.7 ارب ڈالر کے ذخائر موجود تھے۔ مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں ایف بی آر کے محصولات کا حجم 7.17 ٹریلین روپے ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 6.9 ٹریلین روپے کے مقابلے میں 10.5 فیصد زیادہ ہے

نان ٹیکس محصولات کاحجم 3.847ٹریلین روپے ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 3.602ٹریلین روپے کے مقابلہ میں 6.8فیصدزیادہ ہے،مالی خسارہ کاحجم 5.41ٹریلین روپے اوربنیادی خسارہ کاحجم 4.105ٹریلین روپے ریکارڈ کیا گیا،اعدادوشمارکے مطابق مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں زرعی شعبہ کوقرضوں کی فراہمی کاحجم 1.411ٹریلین روپے ریکارڈکیاگیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے 1.266ٹریلین روپے کے مقابلہ میں 11.4فیصدزیادہ ہے،یکم جولائی سے 13فروری تک نجی شعبہ کو638.2ارب روپے کے قرضہ جات فراہم کئے گئے، گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں نجی شعبہ کوفراہم کردہ قرضہ جات کاحجم 770.8ارب روپے ریکارڈکیاگیاتھا،26جنوری 2026کوپالیسی ریٹ 10.5فیصدتھا جوگزشتہ سال 28جنوری کو12فیصدتھا۔مالی سال کے پہلے 7ماہ میں صارفین کیلئے قیمتوں کااشاریہ(افراط زر) 5.2فیصدتھا جوگزشتہ سال کی اسی مدت میں 6.5فیصدکی سطح پرتھا،جولائی تادسمبربڑی صنعتوں کی پیداوارکااشاریہ 4.82فیصدریکارڈکیاگیا،گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں بڑی صنعتوں کی پیداوارکااشاریہ منفی 1.80فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا

پاکستان سٹاک ایکسچینج میں جاری سال کے دوران نمایاں تیزی کارحجان جاری ہے اورکاروبارکے نئے ریکارڈقائم ہورہے ہیں، 26فروری 2026کو پاکستان سٹاک ایکسچینج کا100انڈیکس 113862پوائنٹس تھا،26فروری 2026کو سٹاک ایکسچینج کا100انڈیکس168893پوائنٹس ریکارڈکیاگیا، انڈیکس میں مجموعی طورپ 48فیصد جبکہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں 35.4فیصدکی شرح سے نموہوئی ہے،مالی سال کے پہلے 7ماہ میں نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن میں اضافہ کی شرح 26فیصدریکارڈکی گئی۔