فائل فوٹو

اسلام آباد (پی ایم این/ویب ڈیسک)ترجمان دفترخارجہ طاہر حسین اندرابی کا کہنا ہے کہ برگن سٹاک مذاکرات جاری ہیں، فی الحال عارضی وقفہ ہے۔ ایران امریکا تکنیکی مذاکرات آئندہ ہفتے دوبارہ شروع ہوں گے۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہرحسین اندرابی نے کہا آبنائے ہرمز کا بلاکیڈ ختم ہو چکا، حتمی حیثیت کے تعین کے لئے بات چیت جاری ہے۔ پاکستان تکنیکی سطح کے مذاکرات میں بھی شامل ہے جس سے اسٹرٹیجک امور بھی جڑے ہیں۔

ترجمان نے کہا وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر نپی تلی اور واضح بات کی۔ ایرانی میزائل پروگرام کا معاملہ اسلام آباد ایم او یو میں شامل نہیں۔ وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں جو بات کی وہ ایک مجموعی صورتحال کے تناظر میں تھی۔

ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ مختلف ممالک کا خطے میں قیام امن کے کردار کا معترف ہونا پاکستان پر عالمی برادری کے اعتماد کا مظہر ہے۔ پاکستان خطے کے امن کیلئے تعمیری اور فعال کردار ادا کرتا رہے گا۔

ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفترخارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ برگن اسٹاک میں ایران امریکا مذاکرات کی وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل نے پاکستان کی نمائندگی کی۔ پاکستان اور قطر کی تکنیکی ٹیمیں بھی امریکا اور ایران کے ساتھ رابطے میں رہیں گی۔

حسین اندرابی نے کہا کہ فریقین کے تین مخصوص ورکنگ گروپس بنے، پہلا گروپ نیوکلیئر پروگرام، دوسرا پابندیوں اور منجمد اثاثوں، تیسرا لبنان پر کام کررہا ہے۔ اسلام آباد ایم او یو اور لوسرن اجلاس ہمارے اعتماد کو تقویت دیتا ہے کہ بات چیت اور سفارتکاری ہی تنازعات اور قضیوں کے پُرامن حل کیلئے مؤثر ترین ذرائع ہیں۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ ایرانی صدر کے دورے میں مختلف دوطرفہ پراجیکٹس پر بات ہوئی، ایران کے ساتھ دوطرفہ منصوبوں پر پیش رفت امریکی و عالمی پابندیوں کے خاتمے کے ساتھ ممکن ہوگی۔ ایران کے ساتھ مشترکہ منصوبوں اور تجارت کا معاملہ پابندیوں کے خاتمے کے ساتھ جڑا ہے۔

ترجمان نے پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی پر کہا بھارت کی اعلی قیادت کی بدزبانی معمول ہے، اور ہمارے لیے حیران کن نہیں۔ پاکستان کی توجہ مستقبل پر مرکوز ہے۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ ہم نے افغان عوام کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا، افغان سرزمین سے اٹھنے والی دہشت گردی کی لہر کے بعد سفارتی حل ممکن نہیں رہا تھا ہم اپنے شہریوں کے تحفظ کیلئے حق دفاع کے تحت کارروائی کرتے رہیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ علاقائی سلامتی بالخصوص افغانستان کے حوالے سے چین کے کردار کے معترف ہیں، پاکستان اور چین دونوں کو افغانستان سے خطرات لاحق ہیں اگر ہمیں افغانستان میں ٹی ٹی پی سے دہشت گردی کا خطرہ ہے تو چین کو ای ٹی آئی ایم سے ایسا ہی خطرہ ہے۔

By PMN