افغان طالبان رجیم ”غیر قانونی حکومت “ ہے، عطاء اللہ تارڑ

اسلام آباد۔27فروری (پی ایم این):وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے افغان طالبان رجیم کو ”غیر قانونی حکومت“ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم سرحد پار دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہی ہے، افغان طالبان حکومت غلامی کو رسمی حیثیت دینے اور خواتین و اقلیتوں کے حقوق کو منظم طور پر ختم کرنے میں ملوث ہے۔ جمعہ کو یہاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے افغان طالبان اور پاکستانی سرزمین پر حملے کرنے والے دہشت گرد تنظیموں کے درمیان ناقابل تردید تعلق کو بے نقاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغان حکومت دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے، تربیت اور معاونت فراہم کرتی ہے جو پاکستان میں داخل ہو کر معصوم شہریوں اور سیکورٹی اہلکاروں کو ہلاک کرتے ہیں۔ انہوں نے اس ضمن میں اسلام آباد کچہری، امام بارگاہ پر حالیہ حملوں اور لیفٹیننٹ کرنل گل فراز احمد کی شہادت کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی جانب سے حالیہ بلا اشتعال حملوں کا پاکستان کی مسلح افواج نے موثر کارروائی سے جواب دیا جس کے نتیجے میں حملہ آوروں کی کارروائیوں کو ناکام بنایا گیا اور متعدد دشمن چوکیوں پر قبضہ کیا گیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے افغان طالبان کی داخلی پالیسیوں کے حوالے سے کہا کہ طالبان رجیم مذہب کو مکمل طور پر آمرانہ مقاصد کے لئے استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان حکومت طاقت کے زور پر بغیر کسی جائز عمل کے اقتدار میں آئی اور عوام کی حمایت کے بغیر کام کر رہی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ طالبان کے نئے سخت گیر نئے مجرمانہ قوانین غلامی، تشدد اور شدید سماجی عدم مساوات کو کھلے عام قانونی حیثیت دیتے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے اس موقع پر تفصیل سے آگاہ کیا کہ کس طرح افغان طالبان حکومت نے معاشرے کو طبقاتی بنیادوں پر تقسیم کر کے کھلے عام امتیازی انصاف کا نظام قائم کیا ہے۔ ان نئے قوانین کے تحت مذہبی علماء اور اشرافیہ کو جرائم پر محض انتباہ دیا جاتا ہے جبکہ درمیانے طبقے کے لئے قید نافذ کی جاتی ہے اور نچلے طبقے کو دھمکیاں اور جسمانی تشدد سہنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان رجیم نے افراد کو کھلے عام ”آزاد“ یا ”غلام“ کے طور پر تسلیم کیا اور غلامی کو اپنے فوجداری نظام میں جائز حیثیت دی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے ان اقدامات کو بین الاقوامی انسانی حقوق، معاصر اسلامی علمی اتفاق رائے اور قاہرہ اعلامیہ کی واضح خلاف ورزی قرار دیا۔

افغان طالبان کے خواتین اور بچوں کے ساتھ ہولناک سلوک کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ طالبان حکومت نے دنیا میں سب سے وسیع صنفی فرق کو نافذ کر رکھا ہے۔ 18 سے 29 سال کی عمر کی 80 فیصد نوجوان افغان خواتین تعلیم سے محروم ہیں کیونکہ 13 سال کی عمر کے بعد لڑکیوں کو سکول جانے کی اجازت نہیں ہے۔ خواتین کو عوامی پارکس، جم اور تعمیری روزگار کے تمام مواقع بشمول فری لانسنگ، آئی ٹی اور سول سروس سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طالبان رجیم نے فیصلہ سازی کے تمام عہدوں سے خواتین کو مکمل طور پر خارج کر دیا ہے، 3000 افراد پر مشتمل فورس تعینات کی گئی ہے تاکہ خواتین کو عوام میں بات کرنے یا اپنی روزمرہ زندگی گذارنے سے روکا جا سکے۔ افغان خواتین اور بچوں کو صحت کی بنیادی سہولیات اور ویکسینیشن کے حقوق سے بھی محروم رکھا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے 12 فروری 2026ء کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے طالبان حکومت کی انتہائی قابل مذمت حکمت عملیوں کی نشاندہی کی جن میں اغواء اور خواتین و لڑکیوں کے حقوق کی شدید خلاف ورزیاں شامل ہیں۔

انہوں نے بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کا بھی حوالہ دیا جن کے مطابق بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ اور چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی کے خلاف صنفی بنیاد پر ظلم و ستم کے شبہات کے معقول اسباب پائے گئے جس کے نتیجے میں طالبان لیڈرز کے خلاف وارنٹ جاری کئے گئے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ افغان طالبان حکومت ظلم و جبر کے نظام پر مبنی ہے اور اس کے مظالم اور اسلامی تعلیمات کی کی تحریف کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مہذب دنیا سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس غیر قانونی افغان طالبان کے موجودہ حالات، شدید انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، نظاماتی امتیازی سلوک اور ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کی پہچان کرے۔