اسلام آباد(پی ایم این)قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال کیلئے سترہ ہزار پانچ سو تہتر ارب روپے کے وفاقی بجٹ کی منظوری دی ہے جس میں پائیدار اور مجموعی معاشی ترقی پر توجہ دی گئی ہے۔
اس سلسلے میں وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے تحریک پیش کی۔
ایوان نے آئندہ ماہ کی پہلی تاریخ سے شروع ہونے والے مالی سال کیلئے وفاقی حکومت کی مالی تجاویز پرعملدرآمد کرتے ہوئے بعض ترامیم کے ساتھ مالیاتی بل دوہزار پچیس کی منظوری دی۔ بجٹ میں آئندہ مالی سال کیلئے معاشی ترقی کی شرح چار اعشاریہ دو فیصد اور مہنگائی کی شرح سات اعشاریہ پانچ فیصد رکھی گئی ہے ۔
مجموعی آمدن کا تخمینہ گیارہ ہزار 72 ارب روپے جبکہ ایف بی آر کی وصولیوں کا تخمینہ چودہ ہزار ایک سو اکتیس ارب روپے لگایا گیا ہے جو ختم ہونے والے مالی سال کے مقابلے میں اٹھارہ اعشاریہ سات فیصد زیادہ ہے غیرمحصولاتی آمدن پانچ ہزار ایک سو سینتالیس ارب روپے ہوگی۔
دوہزار پانچ سو پچاس ارب روپے دفاع، ایک ہزار پچپن ارب روپے پنشن اخراجات اور ایک ہزار ایک سو چھیاسی ارب روپے بجلی اور دیگر شعبوں میں اعانت کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔بجٹ میں فراہم کئے گئے اہم ریلیف میں تنخواہوں میں دس فیصد اورپنشن میں سات فیصد اضافہ اور تنخواہ دار طبقے کیلئے تمام SLABS میں ٹیکس ریلیف شامل ہے۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے سات سوسولہ ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں۔
سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام کیلئے دس کھرب روپے رکھے گئے ہیں سب سے زیادہ تین سو اٹھائیس ارب روپے ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کے منصوبوں کیلئے مختص کئے گئے ہیں۔
دیامربھاشاڈیم کیلئے بتیس ارب ستر کروڑ روپے ، مہمند ڈیم کیلئے پینتیس ارب ستر کروڑ ، کے فور منصوبے کیلئے تین ارب بیس کروڑ ، KALRI BAGHAR فیڈر کی لائنز ڈالنے کیلئے دس ارب اور انڈس بیسن سسٹم پر ٹیلی میٹری نظام کی تنصیب کیلئے چار ارب چالیس کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔
اعلی تعلیمی کمیشن کو ایک سوستر منصوبوں کیلئے انتالیس ارب پچاس کروڑ روپے دئیے جائیں گے، پی ایس ڈی پی میں مختلف تعلیمی منصوبوں کیلئے ساڈھے اٹھارہ ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
صحت کے اکیس بڑے منصوبوں کیلئے چودہ ارب تیس کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ زرعی شعبے کی دس جاری اور پانچ نئی سکیموں کیلئے چار ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ بجٹ میں تعمیراتی صنعت کو بھی مراعات دی گئی ہیں جس میں جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی بھی شامل ہے۔
ایوان کا اجلاس اب کل دن گیارہ بجے ہوگا۔