سکرین شاٹ

اسلام آباد(پی ایم این/ویب ڈیسک)چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ راولاکوٹ کے کشمیریوں کو کشمیری نہ کہنے والے کابینہ میں کیوں ہیں؟ وزیردفاع کے بیان نے کشمیر میں بھڑکتی آگ پر تیل چھڑکا ۔ وہ معافی مانگنےکیلئے بھی تیار نہیں۔

بلاول بھٹو نےقومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئےکہا کہ اس بیان کی وجہ سے موقع ملا کہ کشمیر میں ایسے حالات پیدا ہوئے، مولانا حکومت کی ناکامی کی ذمہ داری لے رہے ہیں، انھیں موقع دینا چاہئے، حکومت جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو اینگیج کرکے سیاسی راستہ تلاش کرے۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ تمام سیاسی مسائل کا سیاسی انداز میں حل نکالا جائے، وزیراعظم کو چاہئے کہ وہ اپنی کابینہ کے ارکان کو کنٹرول کریں، اگر وہ خود اپنی پالیسی نہیں دیتے تو مشکلات بڑھیں گی، پی ڈی ایم کا معاہدہ اپنی جگہ، حکومت اتحادیوں کو بے وقت بناتی ہے۔

چیئرمین بلاول بھٹو نے نام لیے بغیر ایم کیوایم کو حکومت سے نکلنے کا بھی مشورہ دیا ۔ کہا کراچی کے ارکان کو ترامیم کا لالی پاپ دیا جارہا ہے ۔ حکومت آپ کے مطالبات پورے نہیں کررہی ۔ نکلیں وفاقی حکومت سے ۔ یہ لالی پاپ لہرا کے اپنا کام چلا کے تماشا دیکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں بلدیاتی نظام نہیں ہے، 90 دن میں الیکشن کراؤ، اسلام آباد کے میئر کو طاقتور کرو، معاشی اور انتظامی خودمختار بناؤ، یہ بلدیاتی نظام صرف کراچی کے دوستوں کے لئے لالی پاپ ہے، کوئی آئینی ترمیم لانے سے قبل ملک بھر میں بلدیاتی الیکشن کرائے جائیں۔

By PMN