عید کی چھری چل گئی۔ جانور ذبح ہو گئے۔ گوشت تین حصوں میں بٹ گیا۔ ایک حصہ غریب کا، ایک رشتہ دار کا، ایک اپنا۔ رسم پوری۔ عبادت پوری؟ پچھلے 20 سال سے ہم نے دیکھاھے۔ کہ عید کی شام تک لاہور بلکہ پورے پنجاب کی ہر گلی، ہر سڑک، ہر چوک خون، آنتوں، کھالوں سے اٹی ہوتی تھیں۔ بدبو ایسی کہ سانس لینا محال۔ بچے بیمار، بزرگ پریشان، شکایتوں کے امبار۔ ہم قربانی کر کے خود کو پاک سمجھتے تھے، اور شہر کو گندا کر دیتے تھے۔ اس سال فرق یہ ہے کہ صرف مشینری نہیں، نیت کا بھی عمل دخل ہوتا ھے۔ فرق صرف ٹرک کا نہیں، ترجیح کا بھی بھی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز نے عید سے پہلے ایک بیان میں کہا تھا کہ "صفائی بھی قربانی ھے” اور پنجاب کی انتظامیہ نے اس لائن کو پتھر پر لکھ دیا۔ نتیجہ؟ عید کے 24 گھنٹے کے اندر پنجاب کی 90 فیصد آلائشیں اٹھ چکی تھیں۔ یہ ریکارڈ ھے۔ یہ انقلاب ھے ۔ قرآن پاک کی آیت کا مفہوم صاف ھے۔ اللہ تک گوشت نہیں پہنچتا، تمہاری پرہیز گاری پہنچتی ہے۔ پرہیز گاری کیا ھے؟ صرف جانور ذبح کرنا نہیں۔ پرہیز گاری یہ ہے کہ آپکے کسی بھی عمل سے کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔ گلی میں آلائش پھینک کر ہم نے خود کو مسلمان کہا، مگر پڑوسی کے بچے کو بخار دے دیا۔ ہم نے جانور کی جان لے کر شہریوں کی سانس بند کر دی۔ فرشتہ سجدے میں ھے۔ اس کے پاس وقت نہیں، صرف تسبیح ھے۔ شیطان بغاوت میں ھے۔ اس کے پاس انکار ھے، مگر تعمیر نہیں۔ انسان کے پاس دونوں ہیں۔ وہ قربانی بھی کر سکتا ھے، اور صفائی بھی۔ عید الاضحی ہمیں یہی سکھاتی ھے۔ ابراہیم نے بیٹے کو قربان کرنے کا ارادہ کیا۔ حکم مانا۔ نیت خالص کی۔ اللہ نے بکرا بھیج دیا۔ سبق کیا ملا؟ حکم مانو، نیت صاف رکھو، باقی اللہ سنبھال لے گا سچ کڑوا ہوتا ھے، مگر لکھنا پڑے گا۔ ورنہ تحریر کی قیمت کیا؟ 2019 کی عید یاد کریں۔ لاہور کے شادباغ میں 3 دن تک آلائشیں پڑی رہیں۔ LWMC کی گاڑیاں کم، شکایتیں زیادہ تھیں۔ محلے کے مولوی صاحب نے خطبے میں کہا "ہم قربانی کر کے خود گندے ہو گئے”2021 میں ملتان میں ڈینگی کیسز عید کے بعد 40 فیصد بڑھ گئے۔ وجہ؟ کھڑا پانی بکھری آلائشیں مچھروں کی افزائش کی فیکٹریاں بن گئیں۔ ہم نے اللہ کی راہ میں جانور دیا، اور شیطان کی راہ میں بیماری بانٹ دی۔ 2023 میں فیصل آباد کی مین مارکیٹس میں عید کے دوسرے دن تاجر ہڑتال پر چلے گئے۔ وجہ؟ گاہک نہیں آ رہا تھا۔ کیونکہ مارکیٹس میں تعفن تھا۔ ہم نے کاروبار بھی بند کر دیا، اور عبادت کا نام بھی لے لیا۔ مسئلہ کیا تھا؟ مسئلہ پلاننگ کا تھا۔ مسئلہ یہ تھا کہ ہم قربانی کو صرف "ذبح” سمجھتے تھے۔ "اٹھانے” کو نہیں ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف نے عید سے 15 دن پہلے بیٹھک لگائی۔ تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، واسا، LWMC، میٹروپولیٹن کارپوریشن کے سربراہان کو ایک کمرے میں بٹھایا۔ اور ایک لائن بولی: "میری عید تب ہو گی جب پنجاب کی آخری گلی سے آخری آلائش اٹھ جائے گی۔ ورنہ میری عید نہیں، یہ عہد تھا۔ یہ نیت تھی۔ یہ وہی "کن فیکون” والی نیت تھی۔ ہر ضلع میں "عید صفائی کنٹرول روم” بنا۔ 1166 ہیلپ لائن ایکٹو ہوئی۔ ہر یونین کونسل میں ڈمپنگ پوائنٹ فکس ہوا۔ شہری کو بتایا گیا: آلائش یہاں رکھیں، ہم 2 گھنٹے میں اٹھا لیں گے۔ لاہور میں 200 اضافی ڈمپر، فیصل آباد میں 120، ملتان میں 90 رات کو بھی شفٹ لگیں۔ ورکرز کو ڈبل ڈیوٹی الاؤنس ملا۔ عزت ملی۔ کیونکہ صفائی کرنے والا بھی مجاہد تھے۔ وزیر اعلیٰ خود فیلڈ میں نکلیں۔ عید والے دن لاہور کی گلیوں میں موبائل پر لائیو ڈیش بورڈ جہاں شکایت آتی، 30 منٹ میں ٹرک پہنچتا۔ یہ فوٹو سیشن نہیں تھا۔ یہ جواب دہی تھی۔ پنجاب ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے مطابق عید کے پہلے 36 گھنٹے میں 52 ہزار ٹن سے زائد آلائشیں محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگا دی گئیں۔ لاہور کی 98 فیصد گلیاں 24 گھنٹے میں کلئیر۔ یہ نمبر نہیں ھے یہ عزت پاکستان کی ھے۔ یہ عزت اسلام کی ھے۔ نبی کریم نے فرمایا ” پاکیزگی نصف ایمان ھے” غور کریں کہ ایمان کے ارکان نہ صرف نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج ھیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ صفائی بھی نصف ایمان ھے۔ ہم نے ہمیشہ صفائی کو "بلدیہ کا کام” سمجھا ھے لیکن یہ عوام کا کام ھی ہوتا ہے۔ مدینہ کی گلیوں سے نبی کریم خود کانٹے اٹھاتے تھے۔ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ھے۔ تو راستے سے آلائش ہٹانا؟ یہ تو صدقہ جاریہ ھے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے یہی کیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ حکمران کا کام صرف تقریر کرنا نہیں۔ فائل سائن کرنا بھی ھے، اور اپنے معاشرے کو صاف ستھرا ماحول فراہم کرنا بھی ھے۔ ’’ماڈل پنجاب‘‘ ہم شہریوں کا امتحان حکومت نے اپنا کام کر دیا۔ ہم نے قربانی کر لی۔ جانور ذبح کر دیا۔ گوشت کھا لیا۔ سیلفیاں لے لیں۔ اب ہماری ذمہ داری ختم ! آلائش کو پیک کر کے مقررہ جگہ پر رکھنا۔ یہ آپ کا کام ھے۔ ورکر کی عزت کرنا۔ جو 50 ڈگری میں دستانے پہن کر آپ کا کچرا اٹھا رہا ھے، اسے گالی نہیں، دعا دیں۔ اس کے لیے ٹھنڈا پانی رکھیں۔ وہ بھی انسان ھے۔ وہ بھی عید کر رہا ھے۔لہذا شکایت کے ساتھ حل بھی بتانا۔ 1166 پر کال کریں، مگر خود بھی جھاڑو پکڑیں۔ تنقید آسان ھے، تعمیر مشکل ھے۔ یاد رکھیں۔ قومیں ٹرک سے نہیں بنتیں، تربیت سے بنتی ھیں۔ حکومت سڑک صاف کر دے گی۔ مگر دل کون صاف کرے گا؟ وہ ہم نے خود کرنا ھے۔ دنیا کا سب سے قیمتی لمحہ وہ ھے جس میں حقیقت کھل کے بیاں کر دی جائے۔ آج کی حقیقت کیا ھے؟حقیقت یہ ہے کہ پنجاب بدل چکا ھے۔ حقیقت یہ ھے کہ ایک خاتون حکمران نے ثابت کر دیا کہ "نرم ہاتھ” بھی "سخت فیصلے” کر سکتے ھیں۔ حقیقت یہ ھے کہ جب نیت صاف ہو تو مشینری بھی دعا کرنے لگتی ھے۔ اور سب سے بڑی حقیقت یہ ھے کہ ہم لکھ دیں گے تو بچے پڑھیں گے۔ 10سال بعد کوئی بچہ یہ کالم پڑھے گا تو کہے گا”2026 میں میرے شہر کی گلیاں صاف تھیں۔ میرے حکمران نے محنت کی تھی۔ میرے باپ نے کچرا ڈسٹ بن میں پھینکا تھا۔ تو پنجاب والو، قربانی ختم نہیں ہوئی۔ قربانی کا دوسرا مرحلہ باقی ھے۔ پہلا حصہ چھری کا تھا۔ دوسرا مرحلہ جھاڑو کا ھے۔ پہلا حصہ گوشت کا تھا۔ دوسرا حصہ گلی کا ھے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے پہلا قدم اٹھا دیا۔ ٹرک چلا دیے۔ ورکر اتار دیے۔ اب ہماری باری ھے۔ ہم قدم اٹھائیں۔ کچرا ڈسٹ بن میں ڈالیں۔ گلی کو مسجد کا صحن سمجھیں۔ کیونکہ وقت کی مالا کا ہر دانہ قیمتی ھے۔ جو دانہ گندگی سے لتھڑا ہو، وہ دانہ ہیرا نہیں بن سکتا۔ آئیے آج عہد کریں۔ اگلی عید پر ہم فخر سے کہیں گے، ہم نے قربانی بھی کی، اور صفائی بھی کی۔ ہم نے جانور بھی ذبح کیا، اور شہر بھی بچا لیا، تب جا کر ہم سچے مسلمان کہلائیں گے۔ تب جا کر ہماری عید مکمل ہو گی۔

 

By PMN