صدر ڈونلڈ ٹرمپ چین کا دو روزہ دورہ کر کے واشنگٹن واپس روانہ ہو گئے ہیں۔ اس دورے کے بارے میں متعدد اندازے قائم کیے جا رہے تھے تاہم دونوں ملکوں کے سربراہان کی ملاقات کے بعد کوئی مشترکہ اعلامیہ سامنے نہیں آیا۔ اس کی بجائے امریکہ اور چین نے اپنے اپنے طور پر بات چیت کے بارے میں میڈیا کو معلومات فراہم کی ہیں۔
اس ملاقات کو دو حوالوں سے اہم سمجھا جا رہا تھا۔ ایک تو ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے متعدد ممالک پر بھاری ٹیرف لگانے کا سلسلہ شروع کیا تھا جس کے ذریعے وہ تجارتی خسارہ کنٹرول کرنے اور امریکہ کے قومی خزانے کی آمدنی میں اضافے کے خواہش مند تھے۔ تاہم چین نے ٹرمپ کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی بجائے ٹیرف کا جواب امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف عائد کر کے دیا۔ ایک وقت میں دونوں ملکوں کے درمیان تناؤ کی کیفیت پیدا ہو گئی تھی اور قیاس کیا جا رہا تھا کہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان تصادم کی وجہ سے عالمی معاشی صورت حال متاثر ہوگی۔ تاہم دونوں ملکوں نے باہمی افہام و تفہیم سے اس معاملہ کو سنبھال لیا تھا۔ اس دورہ میں توقع کی جا رہی تھی کہ اس معاملہ پر امریکہ اور چین کسی بہتر مفاہمت تک پہنچ سکیں گے۔
تاہم اس دورے کے حوالے سے سب سے اہم معاملہ ایران جنگ سمجھی جا رہی تھی۔ امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر 28 فروری کو ایران پر بمباری شروع کی تھی اور شدید تباہی پھیلائی تھی۔ اس کے جواب میں ایک تو ایران نے مشرق و سطیٰ میں امریکی حلیف ممالک کو نشانہ بنایا لیکن سب سے بڑھ کر پاسداران انقلاب کی بحری فورس نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا۔ یہ آبی گزرگاہ عرب ممالک کے تیل کی برآمد میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ اس راستے کے بند ہونے سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی جس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر مرتب ہوئے ہیں۔ ٹرمپ یہ دعوے کرنے کے باوجود کہ ایرانی بحریہ کو تباہ کر دیا گیا، آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک بحال کرانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ لہذا اپریل کے شروع میں اسلام آباد میں ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی ناکامی کے بعد سے امریکہ نے بھی ایران کا بلاکیڈ شروع کر دیا۔ اس حکمت عملی سے ٹرمپ حکومت ایران کی معاشی شہ رگ دبا کر اسے کسی معاہدے پر مجبور کرنا چاہتی تھی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کسی بھی طرح چین جانے سے پہلے ایران کے ساتھ حتمی جنگ بندی کا معاہدہ طے کرنا چاہتے تھے لیکن ایران نے آبنائے ہرمز کا ہتھکنڈا استعمال کرتے ہوئے امریکہ کو اس تنازعہ سے نکلنے کا کوئی مناسب راستہ دینے سے انکار کیا ہوا ہے۔ چین نے ایران میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے اور وہ ایرانی تیل کا سب سے بڑا خریدار بھی ہے۔ اس لیے مبصرین یہ اندازے قائم کر رہے تھے کہ دونوں سربراہوں کی ملاقات میں ایران جنگ کے بارے میں کوئی اتفاق رائے پیدا ہو سکے گا۔ امریکہ کو توقع تھی کہ چینی صدر شی جن پنگ ایران پر دباؤ ڈال کر اسے کسی معاہدے پر آمادہ کرنے میں معاونت کریں گے۔ ٹرمپ کے دورہ کے دوران ایران تنازعہ پر بات چیت کے باوجود بیجنگ نے کوئی ایسا وعدہ نہیں کیا ہے جس سے یہ ظاہر ہو سکے کہ وہ ایران کو کسی بھی قیمت پر امریکہ کے ساتھ معاہدہ کرنے پر آمادہ کرے گا۔ اگرچہ چینی صدر نے جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کھولنے، ایران کو جنگ کے دوران ہتھیار فراہم نہ کرنے اور اس اصول پر اتفاق کیا کہ ایران مستقبل میں جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔ تاہم یہ ساری معلومات امریکی صدر اور سرکاری ذرائع سے سامنے آئی ہیں۔ چین نے ان کی تصدیق یا تائید میں کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ البتہ اس کی طرف سے امریکہ کی طرف سے فراہم کردہ معلومات کی تردید بھی نہیں کی گئی۔
اس سربراہی ملاقات کے بعد یہ کہنا تو مشکل ہے کہ ایران جنگ کا خاتمہ ہو جائے گا لیکن یہ اشارے بہر حال موجود ہیں کہ چین اس تنازعہ کو ختم کرانے میں دلچسپی رکھتا ہے اور ایک خاص حد تک کے اندر اپنا اثر و رسوخ بھی استعمال کر رہا ہے۔ اس میں سے ایک پہلو تو پاکستان کی سفارتی مصالحتی کوششوں کی حوصلہ افزائی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایران کو امن قائم کرنے اور آبنائے ہرمز کھولنے کا پیغام دیا جا رہا ہے۔ اس پس منظر میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے نئی دہلی میں برکس وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے بعد بتایا کہ پاکستان کی سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اگرچہ امریکہ پر اعتماد نہیں کرتا لیکن اگر معقول رویہ اختیار کیا جائے تو تہران سفارتی طریقے سے کسی مصالحت پر تیار ہے۔ انہوں نے یہ وعدہ بھی دہرایا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ موجودہ تنازعہ میں ایسا کوئی وعدہ بنیادی اہمیت کا حامل ہو سکتا ہے۔ اگرچہ امریکہ اب بھی ایک تو ایران کی جوہری سہولتوں پر دس بیس سال کی پابندی لگانے کی بات کرتا ہے، دوسرے افزودہ یورینیم کے بارے میں بھی وہ واضح معاہدہ چاہتا ہے۔ جبکہ ایران فی الوقت مستقل جنگ بندی کے بدلے آبنائے ہرمز کھولنے پر اتفاق کرنے کی بات کر رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کے دورہ چین کے بعد آئندہ چند دنوں میں واضح ہو سکے گا کہ بیجنگ تہران کو کیا پیغام بھیجتا ہے اور ایرانی قیادت اس پر کیا رد عمل ظاہر کرتی ہے۔ بصورت دیگر صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر جنگ میں شدت پیدا کرنے کی بات تو کی ہے۔
تاہم اس دورہ کے دوران چین کے صدر شی جن پنگ نے دو ایسی باتیں کی ہیں جنہیں پہلے اتنی صراحت سے بیان نہیں کیا گیا تھا۔ انہوں نے صدر ٹرمپ سے کہا کہ امریکہ کو تائیوان کے سوال پر معقول رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ کوئی غیر ذمہ دارانہ رویہ دونوں ملکوں کے درمیان تنازعہ بلکہ تصادم کا سبب بن سکتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس معاملے پر صحافیوں کے سوالوں کا جواب نہیں دیا لیکن صدر شی جن پنگ کا یہ پیغام بہت صاف اور دو ٹوک تھا کہ ’تائیوان کی خود مختاری اور امن ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے‘ ۔ امریکہ کی طرف سے اگرچہ تائیوان کی خود مختاری کے اصول سے پیچھے ہٹنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا لیکن ٹرمپ نے تائیوان کو اسلحہ فراہم کرنے کے سوال پر صاف جواب دینے سے گریز کیا ہے۔ اس کے علاوہ صدر شی جن پنگ کے واضح پیغام پر خاموشی اختیار کر کے امریکہ نے اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ چین اب عسکری لحاظ سے اتنا طاقت ور ہے کہ اسے دھمکانے اور دباؤ میں لانے کا کوئی طریقہ کامیاب نہیں ہو گا۔
اسی کے ساتھ صدر شی جن پنگ نے چین کو امریکہ کے مد مقابل برابر کی عالمی طاقت کے طور پر پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دو بڑے اور ذمہ دار ممالک کے طور پر دنیا کے امن کو یقینی بنانا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ان کا پیغام تھا کہ امریکہ کو چین کے ساتھ تعاون اور اشتراک کا راستہ اختیار کرنا چاہیے کیوں کہ تصادم سے کسی کا فائدہ نہیں ہو گا۔ یہ پیغام دیتے ہوئے بالواسطہ طور سے ہی سہی لیکن چین کے صدر نے واضح کیا ہے کہ ان کے خیال میں اب امریکہ کو دنیا کی واحد سپر پاور سمجھنے کے تاثر سے باہر نکلنا چاہیے۔ چین اب برابری کی بنیاد پر امریکہ کے ہم قدم عالمی معاملات میں رائے رکھنے اور فیصلہ سازی میں حصہ لینے کا دعوے دار ہے۔
چینی صدر کے یہ دو پیغامات دنیا پر امریکہ کی یک طرفہ بالادستی ختم ہونے کا اشارہ ہیں۔ ایران کے خلاف جنگ نے امریکہ کی اخلاقی و سفارتی پوزیشن کمزور کی ہے جس کے نتیجے میں چین نے خاموش سفارتی کردار کے ذریعے اپنی اسٹریٹیجک پوزیشن مضبوط کی ہے۔ اب وہ واشنگٹن کو مل کر باہمی مفادات اور عالمی امن کے لیے کام کرنے کا مشورہ دے رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کے حالیہ دورہ چین کے دوران یہ حقیقت کھل کر سامنے آئی ہے۔ بیجنگ نے اپنی پوزیشن واضح کردی ہے۔ اب واشنگٹن اگر تصادم کا راستہ اختیار کرتا ہے تو چین نے مقابلہ کرنے کا واضح اشارہ دیا ہے۔
