خواتین کی قیادت پاکستان میں موسمیاتی لچک اور پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر قرار
March 08, 2026
اسلام آباد(پی ایم این):وفاقی وزارت موسمیاتی تبدیلی کے ترجمان اور ماحولیاتی پالیسی کے ماہر محمد سلیم شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کے حصول کے لیے خواتین کی موثر شرکت اور قیادت انتہائی ضروری ہے۔
اتوار کو عالمی یومِ خواتین کے موقع پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کو سیلاب، خشک سالی، شدید گرمی کی لہروں اور پانی کی قلت جیسے بڑھتے ہوئے موسمیاتی خطرات کا سامنا ہے، اس لیے موسمیاتی حکمرانی اور سماجی و معاشی ترقی میں خواتین کی شرکت کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی موسمیاتی پالیسی خواتین کو موسمیاتی اقدامات، قدرتی وسائل کے پائیدار انتظام اور مقامی برادریوں کی مضبوطی میں مرکزی کردار دینے پر زور دیتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا موسمیاتی لچک پیدا کرنے، پائیدار ترقی کو فروغ دینے اور ملک بھر کی برادریوں کو مضبوط بنانے کے لیے نہایت اہم ہے۔
اقوام متحدہ کی جانب سے اس سال عالمی یومِ خواتین کا موضوع حقوق، انصاف اور عمل تمام خواتین اور بچیوں کے لیے مقرر کیا گیا ہے، جس کا مقصد خواتین کے خلاف امتیازی قوانین اور رویوں کے خاتمے، انصاف تک رسائی کو یقینی بنانے اور صنفی مساوات سے متعلق عالمی وعدوں کو عملی اقدامات میں تبدیل کرنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو بااختیار بنانا صرف انصاف کا تقاضا نہیں بلکہ پاکستان کے لیے موسمیاتی لچک اور پائیدار ترقی کے حصول میں ایک اہم سرمایہ کاری بھی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ رواں سال کی عالمی مہم کا موضوع دینے سے حاصل کرنا رکھا گیا ہے، جو اس بات پر زور دیتا ہے کہ خواتین کو تعلیم، قیادت اور معاشی مواقع فراہم کرنے سے پورے معاشرے کو فائدہ پہنچتا ہے۔