لاہور(پی ایم این/حامد محمود مغل)لاہور کے علاقے ڈیفنس سی میں گاڑی سے ملنے والی لاش کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی، جہاں ابتدائی پولیس شواہد قتل کے بجائے خودکشی کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔ڈی آئی جی آپریشنز کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ ابتدائی شواہد خودکشی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، تاہم کیس کے حتمی نتائج مکمل، شفاف اور جامع تفتیش کے بعد ہی سامنے لائے جائیں گے، جس کے لیے تمام زاویوں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز نے بتایا کہ متوفی عادل کے اہلخانہ سے کی جانے والی تحقیقات کے دوران اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔دورانِ تفتیش گاڑی سے ملنے والی پولیس وردی کا معمہ بھی حل ہو گیا ہے، ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ وردی جنوبی چھاؤنی میں تعینات سب انسپکٹر طاہر کی ہے، اور متوفی عادل اور سب انسپکٹر طاہر آپس میں قریبی دوست تھے۔
ادھراہلخانہ کے بیانات میں بتایا گیا کہ متوفی عادل گزشتہ کچھ عرصے سے سخت ذہنی دباؤ اور پریشانی میں مبتلا تھا، جبکہ ان کے بیانات سے خاندانی تنازعات کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔مزید برآں، عادل کے خلاف مختلف اداروں میں کچھ درخواستیں بھی دائر تھیں، جس کی وجہ سے وہ شدید دباؤ کا شکار تھا۔

