کراچی(پی ایم این)وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ایک بار پھر سڑک کے بیچ بجلی کے کھمبوں کا دفاع کرتے ہوئے تنقید کا جواب دے دیا۔
سندھی مسلم فوڈ واک کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ آج کل میڈیا کھمبوں کے پیچھے بہت پڑی ہوئی ہے، اینکرز سارے مسئلے بھول گئے اور صرف کھمبوں پر بات کر رہے ہیں، ہم پر تنقید ہوتی ہے، ضرور کریں تنقید میں تو دعوت دیتا ہوں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ میں نے کھمبوں کی بات پر میڈیا کی تعریف کی تو انہوں نے دل پر لے لیا اور کھمبا کھمبا کرنا شروع کر دیا، شاہراہ بھٹو کو کورنگی روڈ سے جوڑنا تھا اُدھر بھی کھمبوں کا مسئلہ تھا، کے-الیکٹرک کھمبے نہیں ہٹا رہا، میں نے ناصر حسین شاہ کو کہا کہ کھمبے گرا دو میڈیا ہمارے ساتھ ہے لوگوں کو تکلیف ہوگی لیکن اس میں ہماری کوئی غلطی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم جو بھی ترقیاتی کام کرتے ہیں اس میں وفاقی حکومت کی جانب سے ایشوز آتے رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چاروں صوبوں اور وفاق میں اگر کہیں بلدیاتی نظام چل رہا ہے تو وہ سندھ ہے، ہم چاہ رہے ہیں کہ بلدیاتی اداروں کو مزید مضبوط کیا جائے، سندھ میں ہر سطح پر بلدیاتی نظام اپنا کام کر رہا ہے، ناصر حسین شاہ نے تجویز دی ہے کہ بلدیاتی نمائندوں پر نظر رکھیں تاکہ فنڈ درست استعمال کریں۔
مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ ایک صوبے میں کہا گیا ہے کہ بلدیاتی الیکشن کروائیں، الیکشن ہوں بھی تو ان کا نظام دیکھ لیں، ہمیں کہتے ہیں کہ بلدیاتی نظام مضبوط کرو ہم تو تیار ہیں، بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں لوکل گورنمنٹ کو مضبوط اور سوک ورکس انہی سے کروانے ہیں، انہوں نے جو منصوبہ بنایا ہے اس میں ڈسٹرکٹ چیئرمین اور میئر بھی نہیں ہیں، اس صوبے میں سرکاری افسران کو انتظامیہ رپورٹ کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کا بلدیاتی نظام مضبوط ہے اور اس میں مزید واضح بہتری آئے گی، سندھ کے علاوہ کسی اور صوبے میں بلدیاتی نظام نہیں ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے بتایا کہ کراچی شہر کی بہتری کیلیے 165 سڑکوں پر کام ہو رہا ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ بزنس کمیونٹی کو کہتا ہوں ہمارے ساتھ بیٹھ کر مسائل بھی دیکھیں کیا ہوتے ہیں، بزنس کمیونٹی جائز شکایت کرتی ہے لیکن ہمارے ساتھ بیٹھ کر مسائل بھی دیکھیں، آپ پر سختی ہو ناراض بھی ہو جاتے ہیں آپ سمجھ گئے ہوں گے کیا بات کر رہا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ نیب جب بزنس کمیونٹی کے پیچھے آئی تھی تو کیا ہوا تھا، ہمیں ابھی بھی نوٹس آتے ہیں 1985 سے 2026 تک فلاں محکمے کے ٹھیکوں کا ریکارڈ دیں، جب ریکارڈ دیتے ہیں تو وہ اس میں کسی نقطے کی غلطی ڈھونڈتے ہیں، کوئی نقطہ مل جائے تو کہا جاتا ہے کہ آپ تو کرپٹ ہیں، 165 سڑکوں کی تعمیر کیلیے پری کرومنٹ میں ایک سال لگ گیا۔

