فائل فوٹو

لاہور(پی ایم این)سردیوں میں گرم پانی سے غسل کرنا کافی سکون دیتا ہے، سرد موسم میں بہت سے لوگ دیر تک گرم پانی کے نیچے کھڑے رہنا پسند کرتے ہیں, اس سے جسم کو گرمی ملتی ہے اور تھکاوٹ بھی کچھ کم محسوس ہو سکتی ہے۔لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ بہت زیادہ گرم پانی سے روزانہ غسل کرنے کی عادت آپ کی جلد کو خشک اور بے رونق بنا سکتی ہے؟ خاص طور پر جن لوگوں کی جلد پہلے سے خشک یا حساس ہے، انہیں غسل کرتے وقت کچھ باتوں کا خیال رکھنا چاہیے۔

جلد کی بیرونی تہہ جسم میں نمی برقرار رکھنے اور بیرونی چیزوں سے حفاظت کرنے میں مدد کرتی ہے۔ جلد پر موجود قدرتی تیل بھی اس تہہ کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔جب آپ بہت زیادہ گرم پانی سے نہاتے ہیں تو جلد کے یہ قدرتی تیل کم ہو سکتے ہیں۔ اس سے جلد کی نمی کم ہونے لگتی ہے اور خشکی بڑھ سکتی ہے۔

گرم پانی سے بار بار یا طویل وقت تک نہانے سے جلد میں کھنچاؤ، خارش اور پپڑی جیسی پریشانی بھی ہو سکتی ہے۔ کچھ لوگوں کو جلد پر سرخی یا جلن محسوس ہوتی ہے۔ جن لوگوں کو ایکزیما جیسی جلد کی بیماری ہے، ان میں بہت زیادہ گرم پانی علامات کو بڑھا سکتا ہے۔نہانے کے لیے ہلکا نیم گرم پانی بہتر متبادل ہے۔ پانی اتنا گرم نہیں ہونا چاہیے کہ جلد سرخ ہونے لگے یا نہاتے وقت جلن محسوس ہو۔

ایسا کوئی ایک درجۂ حرارت نہیں ہے جو ہر شخص کے لیے بالکل درست ہو، لیکن آرام دہ نیم گرم پانی کا انتخاب کرنا اور بہت زیادہ گرم پانی سے بچنا مفید ہے۔نہانے کا وقت تقریباً 5 سے 10 منٹ تک رکھیں۔ طویل وقت تک گرم پانی میں رہنے سے جلد کی خشکی بڑھ سکتی ہے۔تیز خوشبو والی اور جلد کو خشک کرنے والی مصنوعات کے بجائے نرم کلینزر کا انتخاب کریں۔ جلد کو زور زور سے رگڑنے سے بھی گریز کریں اور نہانے کے فوراً بعد موئسچرائزر لگائیں۔

گرم پانی سے نہانے کا سکون اسی وقت اچھا ہے، جب اس سے جلد کی صحت متاثر نہ ہو۔ اس لیے پانی کو بہت زیادہ گرم رکھنے کے بجائے نیم گرم رکھیں، نہانے کا وقت محدود کریں اور بعد میں موئسچرائزر لگانا نہ بھولیں۔ ان چھوٹی چھوٹی عادتوں سے سردیوں میں بھی جلد کو خشکی سے بچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

By PMN