اسلام آباد (پی ایم این/ویب ڈیسک)پی ٹی آئی کے پارلیمانی پارٹی اجلاس کے دوران ارکان میں گرما گرمی کی کہانی سامنے آگئی۔
پارٹی رہنما اعظم سواتی نے اجلاس میں کہا بانی پی ٹی آئی نے انہیں اختیار دے کر مذاکرات کرنے کو کہا تھا، اس دورن پارٹی چیئر مین بیرسٹر گوہر نے اعظم سواتی کو درمیان میں ٹوک دیا اور کہا کہ وہ خود جیل میں جا کر بانی پی ٹی آئی سے ملے اور مذاکرات سے متعلق آپ کے اختیار کا پوچھا جس پر عمران خان نے جواب دیا کہ انہوں نے اعظم سواتی کو مذاکرات کا کوئی اختیار نہیں دیا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے یہ بھی بتایا کہ مذاکرات کا مکمل اختیار علامہ راجہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کو ہے، اس کے بعد اعظم سواتی اجلاس چھوڑ کر چلے گئے۔
اس سے پہلے ذرائع سے خبر سامنے آئی تھی کہ تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں ارکان کی اکثریت حکومت سے مذاکرات کی حامی ہے۔
نور الحق قادری نے تین مرتبہ کہا مذاکرات، مذاکرات، مذاکرات تو سب نے تالیاں بجا کر ان کی بات کا خیر مقدم کیا، مشعال یوسفزئی نے سہیل آفریدی اور اپوزیشن قیادت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ بانی پی ٹی آئی بیمار ہیں سہیل آفریدی کو مذاکرات کے بجائے لانگ مارچ کی پڑی تھی۔
اسد قیصر کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی، محمود اچکزئی اور علامہ ناصر عباس پر اعتماد کا اظہار کیا، شفقت اعوان نے بھی مشعال یوسفزئی سے کہا اپنے ارکان یا سہیل آفریدی پر الزام مت لگائیں، حکومت کو ٹف ٹائم دینےکی بجائے ہمارے ارکان اپنوں پر الزام لگا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی مرکزی قائدین نے ارکان کی تقاریر کے دوران بے جا مداخلت پر مشعال یوسفزئی پر اظہارِ برہمی بھی کیا۔

