فائل فوٹو

تہران(پی ایم این)ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر ریئر ایڈمرل علی شمخانی نے عرب میڈٰیا کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم کو بیرونِ ملک منتقل کرنے کا معاملہ ’مکمل طور پر خارج از امکان‘ ہے۔

انہوں نے  کہا کہ اس انتخاب کا ایک عملی پیغام ہے جو کسی بھی ممکنہ صورتحال کے لیے ایران کی مکمل تیاری کی عکاسی کرتا ہے۔ 

علی شمخانی کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت جنگ کے سائے میں زندگی گزار رہا ہے، تاہم اس تیاری کا مطلب تصادم کی خواہش نہیں بلکہ دشمنوں کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں اور دباؤ کا جواب ہے۔

علی شمخانی نے واضح کیا کہ مذاکرات صرف جوہری معاملے پر اور صرف امریکا کے ساتھ ممکن ہیں، بشرطیکہ 2 بنیادی شرائط پوری کی جائیں جو کہ دھمکیوں کا خاتمہ اور غیر حقیقت پسندانہ مطالبات سے دستبرداری ہیں۔

 اگر خدشات برقرار رہتے ہیں تو ایران ملک کے اندر ہی یورینیم افزودگی کی سطح 60 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد تک لانے پر غور کر سکتا ہے لیکن یہ اقدام صرف ٹھوس سیاسی اور معاشی معاوضے کے بدلے ممکن ہوگا، علی شمخانی(فائل فوٹو)

ایران کی افزودہ یورینیم کسی دوسرے ملک منتقل کیے جانے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے شمخانی نے کہا کہ اس اقدام کا ’کوئی جواز نہیں بنتا‘۔ 

انہوں نے ایرانی سپریم لیڈر کے اس فتوے کی یاد دہانی کرائی جس میں جوہری ہتھیاروں پر پابندی عائد کی گئی ہے اور زور دیا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن ہے۔

شمخانی نے خبردار کیا کہ آئندہ کسی بھی تصادم کی صورت میں جنگ ایران کی سرحدوں تک محدود نہیں رہے گی، ماضی کی محاذ آرائیوں میں اختیار کی گئی ضبط و تحمل کی پالیسی کو دوبارہ نہیں دہرایا جائے گا اور اگر خطے میں موجود اڈوں سے خطرات لاحق ہوئے تو ایران مناسب جواب دے گا۔

اسرائیل کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے علی شمخانی نے کہا کہ اگر امریکا نے ایران پر حملہ کیا تو ایران جواب میں یقینی طور پر اسرائیل کو نشانہ بنائے گا۔ 

علی شمخانی کے بقول ایران کے نقطۂ نظر سے امریکا اور اسرائیل الگ الگ نہیں بلکہ علاقائی سلامتی کے تناظر میں ایک ہی محاذ کا حصہ ہیں۔

By admin